Ahmad Faraz Poetry - احمد فراز کی شاعری

Jul 5, 2016
227
4
18
Karachi
#1
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ
تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو
رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم
تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم
اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ
 
Jul 5, 2016
227
4
18
Karachi
#2
Suna Hai Log Usay Aankh Bhar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Log Usay Aankh Bhar Ke Dekhte Hain
So Us Ke Shahar Mein Kuch Din Thehar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Rabt Hai Usko Kharaab Halon Se
So Apne Aap Ko Barbaad Karke Dekhte Hain

Suna Hai Dard Ki Ga-Hak Hai Chashm-E-Naaz Uski
So Ham Bhi Uski Gali Se Guzar Kar Dekhte Hain

Suna Hai Usko Bhi Hai Sheir-O-Shaeri Se Shaghaf
So Ham Bhi Moajze Apne Hunar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Bole To Baton Se Phol Jharte Hain
Yeh Baat Hai To Chalo Baat Kar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Raat Use Chaand Taktaa Rehta Hai
Sitare Baam-E-Falak Se Utar Kar Dekhte Hain

Suna Hai Din Ko Use Titliyaan Satati Hain
Suna Hai Raat Ko Jugnu Thehr Ke Dekhte Hain

Suna Hai Hashr Hain Uski Ghazal Si Aankhein
Suna Hai Usko Hiran Dasht Bhar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Uski Siyah Chashmagi Qayamat Hai
So Usko Surma Farosh Aankh Bhar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Uske Labon Se Gulab Jalte Hain
So Ham Bahaarh Pe Ilzaam Dhar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Aaeinaa Tamasil Hai Jabin Uski
Jo Saadaa Dil Hai Use Ban-Sanwar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Uske Badan Ke Taraash Aise Hain
Ke Phol Apni Qabaaein Katar Ke Dekhte Hain

Suna Hai Uski Shabistaan Se Mut-Tasil Hai Bahisht
Makeen Udhar Ke Bhi Jalve Idhar Ke Dekhte Hain

Ruke Toh Gardishein Uska Tawaaf Karti Hain
Chale To Usko Zamaane Thehr Ke Dekhte Hain

Kahaniyan He Sahi Sab Mubalghe He Sahi
Agar Woh Khawab Hai Tou Taabir Kar Ke Dekhte Hain

Ab Usake Shehar Mein Thehrein Ke Koch Kar Jaein

"Faraz" Aao Sitare Safar Ke Dekhte Hain
 
Jul 5, 2016
227
4
18
Karachi
#3
سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں

سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیں
تو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے
سو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں

سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کی
سو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف
تو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے بولےتو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں
یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے
ستارے بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں
سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتےہیں

سنا ہے حشر ہیں‌اس کی غزال سی آنکھیں
سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں‌کاکلیں اس کی
سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کی سیہ چشمگی قیامت ہے
سو اس کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں

سنا ہےجب سے حمائل ہے اس کی گردن میں
مزاج اور ہی لعل و گوہر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے
کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

سنا ہے اس کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں
سو ہم بہار پہ الزام دھر کےدیکھتے ہیں

سنا ہے آئینہ تمثال ہے جبیں اس کی
جو سادہ دل ہیں‌اسے بن سنور کے دیکھتے ہیں

بس اک نگاہ سے لٹتا ہے قافلہ دل کا
سو راہ روانِ تمنا بھی ڈر کے دیکھتے ہیں

وہ سرو قد ہے مگر بے گل مراد نہیں
کہ اس شجر پہ شگوفے ثمر کے دیکھتے ہیں

بس اك نگاہ سے لوٹا ہے قافلہ دل كا
سو رہ روان تمنا بھی ڈر كے دیكھتے ہیں

سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت
مکیں‌ ادھر کے بھی جلوے اِدھر کے دیکھتے ہیں

کسے نصیب کے بے پیرہن اسے دیکھے
کبھی کبھی درودیوار گھر کے دیکھتے ہیں

رکے تو گردشیں اس کا طواف کرتی ہیں
چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

کہانیاں ہی سہی ، سب مبالغے ہی سہی
اگر وہ خواب ہے تعبیر کرکے دیکھتے ہیں

اب اس کے شہر میں‌ٹھہریں کہ کوچ کر جائیں
فراز آؤ ستارے سفر کے دیکھتے ہیں‌‌

احمد فراز
 
Likes: xResearch

Latest posts