General Poetry - متفرق شاعری

  • جو شخص بہانہ بنانے میں بہت اچھا ہو ، وہ کسی اور کام میں اچھا نہیں ہو سکتا
  • پیسہ بدترین آقا ہے، مگر بہترین غلام بھی ہے
  • کسی فرد یا قوم کو برباد کرنا ہے تو اس کی امید کو مار ڈالیے اور اگر اسے تعمیر کرنا ہے اس کی امید کا دیا روشن کیجئے
  • کامیابی سوچ سے ملتی ہے
  • زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلنے کیلئے تیز چلنا ضروری نہیں، بلکہ ہر رکاوٹ کے باوجود چلتے رہنا اور مسلسل چلتے رہنا ضروری ہے
  • جب باتیں آمنے سامنے ہوتی ہیں تو جھوٹ اور غلط فہممی کا خاتمہ ہو جاتا ھے
  • بہت اونچے پہاڑ پر چڑھنے کے لئیے قدم آہستہ آہستہ اٹھانا پڑتے ہیں
  • تین چیزیں نیکی کی بنیاد ہیں، تواضع بے توقع, سخاوت بے منت اور خدمت بے طلبِ مکافات
  • غربت اور افلاس کی وجہ پیداوار کی کمی نہیں، بلکہ اسکی غلط تقسیم ہے
  • دولت ہونے سے آدمی اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اور دولت نہ ہونے سے لوگ اس کو بھول جاتے ہیں

May 28, 2018
51
1
8
Karachi
#1
حسین سا چہرہ

میری آنکھوں میں جو اک حسین سا چہرا ہے
اس پہ گیسوے دراز کا پہرا ہے

کل شب رخ انور سے نقاب جو ہٹایا
تمام رات چاند اسے دیکھنے کو ٹھہرا ہے

ہم شیش محل والوں سے کیونکر محبت کر بیتھے
یہ جانتے ہوئے بھی، کہ قسمت میں چادر صحرا ہے

قسمت نے ہمیں، تیری جھولی میں ڈال دیا ناصر
چلو اب دیکھتے ہیں، کیا سلوک تیرا ہے
 
May 28, 2018
51
1
8
Karachi
#2
جب سے تیری چھاپ لگی ہے مج

جب سے تیری چھاپ لگی ہے مجھے
ہر لحظہ آس سی لگی ہے مجھے
کر دیگا سرشار اک روز تو مجھے
کیوں یہ خوش گمانی سی رہتی ہے مجھے
لوگ کہتے ہیں بڑا مغرور ہے میرا سجن
پھر بھی میری تو سانس بندھی ہے اسی سے
بھلا کسی نے پتھر کو پگھلتے ہے دیکھا؟
نہ جانے کیوں مجھے پتھر سے آبشار نکالنے کی ضد سی چڑھی ہے؟
آآنکھیں بن گئی ہیں ساکت سی جھیلیں
کچھ ایسے عکس کی اس کے شبیہ سی بنی ہے
 
May 28, 2018
51
1
8
Karachi
#4
کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا ر

کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا
خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا

کسی کی آنکھ میں مستی تو آج بھی ہے وہی
مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا

کبھی جو سینے میں اک آگ تھی وہ سرد ہوئی
کبھی نگاہ میں جو تھا شرار جاتا رہا

عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بے چین
قرار آیا تو جیسے قرار جاتا رہا

کبھی تو میری بھی سنوائی ہوگی محفل میں
میں یہ امید لیے بار بار جاتا رہا​
 
May 28, 2018
51
1
8
Karachi
#5
کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا

کھلا ہے در پہ ترا انتظار جاتا رہا
خلوص تو ہے مگر اعتبار جاتا رہا

کسی کی آنکھ میں مستی تو آج بھی ہے وہی
مگر کبھی جو ہمیں تھا خمار جاتا رہا

کبھی جو سینے میں اک آگ تھی وہ سرد ہوئی
کبھی نگاہ میں جو تھا شرار جاتا رہا

عجب سا چین تھا ہم کو کہ جب تھے ہم بے چین
قرار آیا تو جیسے قرار جاتا رہا

کبھی تو میری بھی سنوائی ہوگی محفل میں
میں یہ امید لیے بار بار جاتا رہا​
 
May 28, 2018
51
1
8
Karachi
#6
یاد ہے انکی عنایت ظلم ڈھانا یاد ہے

یاد ہے انکی عنایت ظلم ڈھانا یاد ہے
جانَ من مجھکو محبت کا زمانا یار ہے

ہم جہاں چھپ چھپ کے ملتے تھےکبھی جانَ جہاں
آج بھی وہ راستہ اور وہ ٹھکانا یاد ہے

بھول بیٹھے ہیں ستم کے آپ ہی قصے مگر
درد غم آنسو کا مجھکو ہر فسانہ یاد ہے

اس لیے دور َ پریشانی سے گھبراتا نہیں
مشکلوں میں انکا مجھکو مسکرانا یاد ہے

گھر کے باہر یک بیک سن کر میری آواز کو
بن د پٹا تیرا دروازے پہ آنا یاد ہے

جان سے اپنی گیا پا کر اشارہ جو تیرا
کیا تجھے اپنا ستمگر وہ د وانہ یاد ہے

حکم سے کس کے گری تصدیق بجلی کیا پتہ
ہمکو جلتا صرف اپنا آشیانہ یاد ہے​
 

Forum statistics

Threads
982
Messages
4,740
Members
143
Latest member
Shagufta

Latest posts