Parveen Shakir Poetry - پروین شاکر گی شاعری

  • جو شخص بہانہ بنانے میں بہت اچھا ہو ، وہ کسی اور کام میں اچھا نہیں ہو سکتا
  • پیسہ بدترین آقا ہے، مگر بہترین غلام بھی ہے
  • کسی فرد یا قوم کو برباد کرنا ہے تو اس کی امید کو مار ڈالیے اور اگر اسے تعمیر کرنا ہے اس کی امید کا دیا روشن کیجئے
  • کامیابی سوچ سے ملتی ہے
  • زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے آگے نکلنے کیلئے تیز چلنا ضروری نہیں، بلکہ ہر رکاوٹ کے باوجود چلتے رہنا اور مسلسل چلتے رہنا ضروری ہے
  • جب باتیں آمنے سامنے ہوتی ہیں تو جھوٹ اور غلط فہممی کا خاتمہ ہو جاتا ھے
  • بہت اونچے پہاڑ پر چڑھنے کے لئیے قدم آہستہ آہستہ اٹھانا پڑتے ہیں
  • تین چیزیں نیکی کی بنیاد ہیں، تواضع بے توقع, سخاوت بے منت اور خدمت بے طلبِ مکافات
  • غربت اور افلاس کی وجہ پیداوار کی کمی نہیں، بلکہ اسکی غلط تقسیم ہے
  • دولت ہونے سے آدمی اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اور دولت نہ ہونے سے لوگ اس کو بھول جاتے ہیں
  • مصروف زندگی نماز کو مشکل بنا دیتی ہے , لیکن نماز مصروف زندگی کو بھی آسان بنا دیتی ہے
  • گناہ کو پھیلانے کا ذریعہ بھی مت بنو, کیونکہ ہوسکتا ہے آپ تو توبہ کرلو, لیکن جس کو آپ نے گناہ پر لگایا ہے وہ آپ کی آخرت کی تباہی کا سبب بن جائے
  • اپنی زندگی میں ہر کسی کو اہمیت دو, جو اچھا ہوگا وہ خوشی دے گا اور جو برا ہوگا وہ سبق دے گا
  • درخت جتنا اونچا ہو گا اس کا سایہ اتنا ہی چھوٹا ہو گا, اس لیے اونچا بننے کی بجائے بڑا بننے کی کوشش کرو
  • جو شخص کوشش اور عمل میں کوتاہی کرتا ہے, پیچھے رہنا اس کا مقدر ہے
  • جو لوگ میانہ روی اختیار کرتے ہیں, کسی کے محتاج نہیں ہوتے
  • حقیقی بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہر چھوٹے کو پہچانتا ہوں اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہو

Jul 5, 2016
268
5
18
Karachi
#1
وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا

وہ تو خوش بو ہے ہواؤں میں بکھر جائے گا
مسئلہ پھول کا ہے پھول کدھر جائے گا

ہم تو سمجھے تھے کہ اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگ جاں میں اتر جائے گا

وہ ہواؤں کی طرح خانہ بجاں پھرتا ہے
ایک جھونکا ہے جو آئے گا گزر جائے گا

وہ جب آئے گا تو پھر اس کی رفاقت کے لیے
موسم گل مرے آنگن میں ٹھہر جائے گا

آخرش وہ بھی کہیں ریت پہ بیٹھی ہوگی
تیرا یہ پیار بھی دریا ہے اتر جائے گا

مجھ کو تہذیب کے برزخ کا بنایا وارث

جرم یہ بھی مرے اجداد کے سر جائے گا
 
Jul 5, 2016
268
5
18
Karachi
#2
ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگا

ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگا
وہ میرے سامنے جب پیرہن بدلنے لگا

بہم ہوئے ہیں تو اب گفتگو نہیں ہوتی
بیان حال میں طرز سخن بدلنے لگا

اندھیرے میں بھی مجھے جگمگا گیا ہے کوئی
بس اک نگاہ سے رنگ بدن بدلنے لگا

ذرا سی دیر کو بارش رکی تھی شاخوں پر
مزاج سوسن و سرو و سمن بدلنے لگا

فراز کوہ پہ بجلی کچھ اس طرح چمکی
لباس وادی و دشت و دمن بدلنے لگا

 
Jul 5, 2016
268
5
18
Karachi
#3
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح
دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح

راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے
جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح

ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک
اولیں لمحوں کے گلنار حجابوں کی طرح

وہ سمندر ہے تو پھر روح کو شاداب کرے
تشنگی کیوں مجھے دیتا ہے سرابوں کی طرح

غیر ممکن ہے ترے گھر کے گلابوں کا شمار
میرے رستے ہوئے زخموں کے حسابوں کی طرح

یاد تو ہوں گی وہ باتیں تجھے اب بھی لیکن
شیلف میں رکھی ہوئی بند کتابوں کی طرح

کون جانے کہ نئے سال میں تو کس کو پڑھے
تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح

شوخ ہو جاتی ہے اب بھی تری آنکھوں کی چمک
گاہے گاہے ترے دلچسپ جوابوں کی طرح

ہجر کی شب مری تنہائی پہ دستک دے گی
تیری خوش بو مرے کھوئے ہوئے خوابوں کی طرح

 
Jul 5, 2016
268
5
18
Karachi
#4
دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا

دھنک دھنک مری پوروں کے خواب کر دے گا
وہ لمس میرے بدن کو گلاب کر دے گا

قبائے جسم کے ہر تار سے گزرتا ہوا
کرن کا پیار مجھے آفتاب کر دے گا

جنوں پسند ہے دل اور تجھ تک آنے میں
بدن کو ناؤ لہو کو چناب کر دے گا

میں سچ کہوں گی مگر پھر بھی ہار جاؤں گی
وہ جھوٹ بولے گا اور لا جواب کر دے گا

انا پرست ہے اتنا کہ بات سے پہلے
وہ اٹھ کے بند مری ہر کتاب کر دے گا

سکوت شہر سخن میں وہ پھول سا لہجہ
سماعتوں کی فضا خواب خواب کر دے گا

اسی طرح سے اگر چاہتا رہا پیہم
سخن وری میں مجھے انتخاب کر دے گا

مری طرح سے کوئی ہے جو زندگی اپنی
تمہاری یاد کے نام انتساب کر دے گا
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#5
پورا دکھ اور آدھا چاند

پورا دکھ اور آدھا چاند
ہجر کی شب اور ایسا چاند

دن میں وحشت بہل گئی
رات ہوئی اور نکلا چاند

کس مقتل سے گزرا ہوگا
اتنا سہما سہما چاند

یادوں کی آباد گلی میں
گھوم رہا ہے تنہا چاند

میری کروٹ پر جاگ اٹھے
نیند کا کتنا کچا چاند

میرے منہ کو کس حیرت سے
دیکھ رہا ہے بھولا چاند

اتنے گھنے بادل کے پیچھے
کتنا تنہا ہوگا چاند

آنسو روکے نور نہائے
دل دریا تن صحرا چاند

اتنے روشن چہرے پر بھی
سورج کا ہے سایا چاند

جب پانی میں چہرہ دیکھا
تو نے کس کو سوچا چاند

برگد کی اک شاخ ہٹا کر
جانے کس کو جھانکا چاند

بادل کے ریشم جھولے میں
بھور سمے تک سویا چاند

رات کے شانے پر سر رکھے
دیکھ رہا ہے سپنا چاند

سوکھے پتوں کے جھرمٹ پر
شبنم تھی یا ننھا چاند

ہاتھ ہلا کر رخصت ہوگا
اس کی صورت ہجر کا چاند

صحرا صحرا بھٹک رہا ہے
اپنے عشق میں سچا چاند

رات کے شاید ایک بجے ہیں
سوتا ہوگا میرا چاند​
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#6
ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کا

ہوائے تازہ میں پھر جسم و جاں بسانے کا
دریچہ کھولیں کہ ہے وقت اس کے آنے کا

اثر ہوا نہیں اس پر ابھی زمانے کا
یہ خواب زاد ہے کردار کس فسانے کا

کبھی کبھی وہ ہمیں بے سبب بھی ملتا ہے
اثر ہوا نہیں اس پر ابھی زمانے کا

ابھی میں ایک محاذ دگر پہ الجھی ہوں
چنا ہے وقت یہ کیا مجھ کو آزمانے کا

کچھ اس طرح کا پر اسرار ہے ترا لہجہ
کہ جیسے رازکشا ہو کسی خزانے کا
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#7
ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگا

ہوا مہک اٹھی رنگ چمن بدلنے لگا
وہ میرے سامنے جب پیرہن بدلنے لگا

بہم ہوئے ہیں تو اب گفتگو نہیں ہوتی
بیان حال میں طرز سخن بدلنے لگا

اندھیرے میں بھی مجھے جگمگا گیا ہے کوئی
بس اک نگاہ سے رنگ بدن بدلنے لگا

ذرا سی دیر کو بارش رکی تھی شاخوں پر
مزاج سوسن و سرو و سمن بدلنے لگا

فراز کوہ پہ بجلی کچھ اس طرح چمکی
لباس وادی و دشت و دمن بدلنے لگا​
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#8
ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کی

ہم نے ہی لوٹنے کا ارادہ نہیں کیا
اس نے بھی بھول جانے کا وعدہ نہیں کیا

دکھ اوڑھتے نہیں کبھی جشن طرب میں ہم
ملبوس دل کو تن کا لبادہ نہیں کیا

جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیر بار ساغر و بادہ نہیں کیا

کار جہاں ہمیں بھی بہت تھے سفر کی شام
اس نے بھی التفات زیادہ نہیں کیا

آمد پہ تیری عطر و چراغ و سبو نہ ہوں
اتنا بھی بود و باش کو سادہ نہیں کیا
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#9
میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا

میں فقط چلتی رہی منزل کو سر اس نے کیا
ساتھ میرے روشنی بن کر سفر اس نے کیا

اس طرح کھینچی ہے میرے گرد دیوار خبر
سارے دشمن روزنوں کو بے نظر اس نے کیا

مجھ میں بستے سارے سناٹوں کی لے اس سے بنی
پتھروں کے درمیاں تھی نغمہ گر اس نے کیا

بے سر و ساماں پہ دل داری کی چادر ڈال دی
بے در و دیوار تھی میں مجھ کو گھر اس نے کیا

پانیوں میں یہ بھی پانی ایک دن تحلیل تھا
قطرۂ بے صرفہ کو لیکن گہر اس نے کیا

ایک معمولی سی اچھائی تراشی ہے بہت
اور فکر خام سے صرف نظر اس نے کیا

پھر تو امکانات پھولوں کی طرح کھلتے گئے
ایک ننھے سے شگوفے کو شجر اس نے کیا

طاق میں رکھے دیے کو پیار سے روشن کیا
اس دیے کو پھر چراغ رہ گزر اس نے کیا
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#10
قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا

قدموں میں بھی تکان تھی گھر بھی قریب تھا
پر کیا کریں کہ اب کے سفر ہی عجیب تھا

نکلے اگر تو چاند دریچے میں رک بھی جائے
اس شہر بے چراغ میں کس کا نصیب تھا

آندھی نے ان رتوں کو بھی بے کار کر دیا
جن کا کبھی ہما سا پرندہ نصیب تھا

کچھ اپنے آپ سے ہی اسے کشمکش نہ تھی
مجھ میں بھی کوئی شخص اسی کا رقیب تھا

پوچھا کسی نے مول تو حیران رہ گیا
اپنی نگاہ میں کوئی کتنا غریب تھا

مقتل سے آنے والی ہوا کو بھی کب ملا
ایسا کوئی دریچہ کہ جو بے صلیب تھا
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#11
دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا

دل کا کیا ہے وہ تو چاہے گا مسلسل ملنا
وہ ستم گر بھی مگر سوچے کسی پل ملنا

واں نہیں وقت تو ہم بھی ہیں عدیم الفرصت
اس سے کیا ملیے جو ہر روز کہے کل ملنا

عشق کی رہ کے مسافر کا مقدر معلوم
شہر کی سوچ میں ہو اور اسے جنگل ملنا

اس کا ملنا ہے عجب طرح کا ملنا جیسے
دشت امید میں اندیشے کا بادل ملنا

دامن شب کو اگر چاک بھی کر لیں تو کہاں
نور میں ڈوبا ہوا صبح کا آنچل ملنا
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#12
چلنے کا حوصلہ نہیں رکنامحال کر دیا

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا

ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا

اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا

میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو
شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا

مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا​

چلنے کا حوصلہ نہیں رکنا محال کر دیا
عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا

ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا

اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا

میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو
شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا

مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا​

عشق کے اس سفر نے تو مجھ کو نڈھال کر دیا

اے مری گل زمیں تجھے چاہ تھی اک کتاب کی
اہل کتاب نے مگر کیا ترا حال کر دیا

ملتے ہوئے دلوں کے بیچ اور تھا فیصلہ کوئی
اس نے مگر بچھڑتے وقت اور سوال کر دیا

اب کے ہوا کے ساتھ ہے دامن یار منتظر
بانوئے شب کے ہاتھ میں رکھنا سنبھال کر دیا

ممکنہ فیصلوں میں ایک ہجر کا فیصلہ بھی تھا
ہم نے تو ایک بات کی اس نے کمال کر دیا

میرے لبوں پہ مہر تھی پر میرے شیشہ رو نے تو
شہر کے شہر کو مرا واقف حال کر دیا

چہرہ و نام ایک ساتھ آج نہ یاد آ سکے
وقت نے کس شبیہ کو خواب و خیال کر دیا

مدتوں بعد اس نے آج مجھ سے کوئی گلہ کیا
منصب دلبری پہ کیا مجھ کو بحال کر دیا​
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#13
چراغ راہ بجھا کیا کہ رہ نما بھی گیا

چراغ راہ بجھا کیا کہ رہ نما بھی گیا
ہوا کے ساتھ مسافر کا نقش پا بھی گیا

میں پھول چنتی رہی اور مجھے خبر نہ ہوئی
وہ شخص آ کے مرے شہر سے چلا بھی گیا

بہت عزیز سہی اس کو میری دل داری
مگر یہ ہے کہ کبھی دل مرا دکھا بھی گیا

اب ان دریچوں پہ گہرے دبیز پردے ہیں
وہ تانک جھانک کا معصوم سلسلہ بھی گیا

سب آئے میری عیادت کو وہ بھی آیا تھا
جو سب گئے تو مرا درد آشنا بھی گیا

یہ غربتیں مری آنکھوں میں کیسی اتری ہیں
کہ خواب بھی مرے رخصت ہیں رتجگا بھی گیا​
 
May 28, 2018
55
1
8
Karachi
#14
بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا

بچھڑا ہے جو اک بار تو ملتے نہیں دیکھا
اس زخم کو ہم نے کبھی سلتے نہیں دیکھا

اک بار جسے چاٹ گئی دھوپ کی خواہش
پھر شاخ پہ اس پھول کو کھلتے نہیں دیکھا

یک لخت گرا ہے تو جڑیں تک نکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا

کانٹوں میں گھرے پھول کو چوم آئے گی لیکن
تتلی کے پروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا

کس طرح مری روح ہری کر گیا آخر
وہ زہر جسے جسم میں کھلتے نہیں دیکھا​
 

Forum statistics

Threads
988
Messages
4,785
Members
148
Latest member
Selly.pk

Latest posts